Saturday, 19 October 2013

تزکیہ نفس

امام غزالی نے (مجموعہ رسائل امام غزالی، ایھا الولد، ج : 1، ص : 161) میں شیخ ابوبکر شبلی رحمہ اللہ کا ایک قول روایت کیا ہے کہ شیخ ابوبکر شبلی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں چار سو شیوخ اور اساتذہ کی خدمت کی اور ان کی صحبت کا فیض پایا ہے۔ میں نے اپنے شیوخ سے چار ہزار احادیث سبقاً پڑھیں مگر بالآخر میں نے ان چار ہزار احادیث کے سرمایہ میں سے ایک حدیث کو اپنی زندگی کے سبق کے طور پہ اختیار کرلیا۔
میں نے اس حدیث پر عمل کیا تو علوم و فنون اور باقی چیزوں سے بے نیاز ہوگیا۔ میں نے دنیا، شیطان اور نفس کے سارے گورکھ دھندوں سے نجات صرف اسی ایک حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبق کے ذریعے حاصل کرلی۔ میں نے دیکھا کہ اولین و آخرین کا سارا علم اسی ایک حدیث میں درج تھا، اس لئے اسی پر اکتفا کیا اور وہ یہ ہے کہ
 

انتظامِ دنیا بقدرِ قیامِ دنیا

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو تعلیم دی اور فرمایا:
اِعْمَلِ الدُّنْيَا بِقَدْرِ مُقَامِک فِيْهَا.
(احمد بن حنبل، الورع، ص : 96)
اے بندے دنیا کو کمانے کی صرف اتنی محنت کر، اتنا وقت صرف کر اور اتنی ہی جان کھپا جتنا تیرا اس دنیا میں قیام ہے۔  اس دنیا کے لئے محنت اور دنیا میں اپنے قیام کا ایک ترازو اور تناسب قائم کر۔
 

 انتظامِ آخرت بقدرِ قیام آخرت

پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
وَاعْمَل لِاخِرَتِکَ بِقَدْرِ بَقَائِکَ فِيْهَا.
اور اپنی آخرت کے لئے اتنا عمل کر، اتنی محنت کر، اتنی تیاری کر جتنا تو نے آخرت میں رہنا ہے۔
یہ موازنہ کرایا جارہا ہے کہ ہم سب کا دنیا میں قیام کتنا ہے؟ ذرا سوچیں کہ کسی کا یہاں قیام تیس، چالیس برس ہے اور کسی کا پچاس، ساٹھ برس کا قیام ہے، کسی کا آخری حد نوے، سو برس کا قیام ہوجائے گا لیکن بالآخر اسے یہاں سے رخصت ہونا ہے، دنیا میں قیام محدود ہے۔ دنیا میں قیام کا یہ دور چشم زدن میں، تیزی سے گزر جاتا ہے۔ دوسری طرف آخرت کا قیام دائمی اور لامحدود ہے۔ آخرت کے قیام اور بقاء کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس دن بندے کی آنکھ بند ہوتی ہے اور اسے قبر میں لٹایا جاتا ہے تو قبر کی پہلی شام سے ہی اس بندے کی آخرت شروع ہوجاتی ہے۔ قبر کی پہلی شام سے شروع کرکے قیامت کے دن تک، پھر قیامت کے اختتام تک اور پھر قیامت کے بعد جنت و دوزخ میں دخول تک اور پھر اس کے دوام تک ساری آخرت ہی رہتی ہے۔ پورا زمانہ قبرو برزخ بھی آخرت۔۔۔ پورا زمانہ قیامت بھی آخرت۔۔۔ بعد از قیامت کا پورا دور بھی آخرت کا ہے۔
پس حدیث مبارکہ میں انسان کو اس جانب متوجہ کیا جارہا ہے کہ اے انسان تو دنیا و آخرت میں قیام کے دورانیہ کو ذہن میں رکھ کر دنیا و آخرت کے لئے کئے جانے والے کاموں میں توازن پیدا کر اور سوچ کہ تو اس دنیا کے لئے کتنی تکلیف اٹھا رہا ہے، کتنی محنت کررہا ہے، کتنی تگ و دو کررہا ہے۔ اتنی محنت کر جتنا تو نے دنیا میں قیام کرنا ہے، اتنی ہی محنت کر جتنی تیری ضرورت ہے۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کے قیام کو ذہن میں رکھ، اس لئے کہ وہاں کا قیام طویل  ہے، کبھی ختم نہ ہونے والا ہے۔ آخرت میں چونکہ قیام بہت زیادہ ہے لہذا آخرت کے لئے تیاری اور محنت اس قیام کے حساب سے کر۔
 

محتاجی کے مطابق عبادت

اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَاعْمَلْ لِلّٰهِ بِقَدْرِ حَاجتِکَ اِليه.
پھر اپنے اللہ کے لئے عمل (عبادت، اطاعت) اتنا کر کہ جتنی تجھے اللہ کی حاجت ہے۔
اس بات کا تعین کرلے کہ تو اللہ کا کتنا محتاج ہے۔۔۔ اگر کسی کو تھوڑی سی حاجت ہے تو وہ تھوڑا عمل کرلے۔ سوچ! کہ کیا صرف کھانے میں اس کی حاجت ہے، یا صرف پینے میں اس کی حاجت ہے، یا صرف پہننے میں اس کی حاجت ہے، یا صرف جینے میں اس کی حاجت ہے، یا صرف مرنے میں اس کی حاجت ہے، یا صرف چلنے پھرنے میں اس کی حاجت ہے، یا صرف بیماری، صحت و شفاء، تندرستی میں اس کی حاجت ہے۔ پس بقدر حاجت اللہ کے لئے کام کر لیکن اگر ہر ہر مرحلے پر تجھے اللہ کی حاجت ہے تو پھر اعمال بھی ہمیشہ اللہ کے لئے کر اور کسی بھی لمحہ اسے فراموش نہ کر۔ اے بندے! تو تعین کرکہ تجھے اللہ تعالیٰ کی کتنی حاجت ہے پس جتنی حاجت تیری سمجھ میں آئے اتنا اللہ کے لئے کام کر۔
کارکن، رفقاء، وابستگان اس بات کو ذہن میں رکھ لیں کہ ایک روٹی کا لقمہ بھی ہمیں اللہ کی حاجت کے بغیر نہیں مل سکتا، لقمہ کھالیں تو اللہ کی مدد کے بغیر پیٹ میں اتر نہیں سکتا اگر اللہ تعالیٰ کی مدد نہ ہو تو سانس تک آ نہیں سکتا۔ ہر لمحہ کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ ایک قدم اٹھایا تو دوسرا قدم نہیں اٹھ سکتا، اٹھا ہوا قدم زمین پر رکھ نہیں سکتے جب تک اللہ کی مدد نہ ہو۔ اے بندے! تو سوچ لے کہ تجھے اللہ کی حاجت کتنی ہے پس اس کے مطابق اعمال انجام دے۔
ہمارا رویہ اس کے برعکس ہے۔ ہم تو اللہ کے لئے کام بہت کم کرتے ہیں۔ اللہ کی اطاعت، اللہ کی بندگی، اللہ کے لئے عبادت، اللہ کی محبت، اس کی رضا، اس پر توکل، اس پر یقین، اس سے تعلق، اس کی طرف ہجرت ان تمام امور کو زندگی کے ہر لمحہ میں فوقیت دینا ہوگی کیونکہ ہمیں اس کی حاجت بھی زندگی کے قدم قدم پر ہے۔ اتنی مزدوری اللہ کے لئے کرنے اور اتنی عبادت اللہ کے لئے کرنے سے ہی حق بندگی ادا ہوتا ہے۔
 

 برے اعمال سے اجتناب

پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَاعْمَلْ لِلنَّارِ بِقَدْرِ صبر عَلَيْهَا.
’’دوزخ کے لئے اتنا کام کر جتنا تو اس کی تکالیف پر صبر کرسکے‘‘۔
ہمارا عمل یہ ہے کہ ہم تو ساری زندگی سب کچھ دوزخ کے لئے ہی کررہے ہیں۔ ہر عمل، اللہ کی نافرمانی، دوزخ کے لئے ہے۔۔۔ غفلت، دوزخ کے لئے۔۔۔ نمازوں کا ترک کردینا، دوزخ کے لئے۔۔۔ حرام کھانا، دوزخ کے لئے۔۔۔ دنیا کا حرص و طمع، دوزخ کے لئے۔۔۔ لالچ، دوزخ کے لئے۔۔۔ جھوٹ بولنا، دوزخ کے لئے۔۔۔ غیبت، دوزخ کے لئے۔۔۔ حسد کرنا، دوزخ کے لئے۔۔۔ کبر اور رعونت، دوزخ کے لئے۔۔۔ نفاق، دوزخ کے لئے۔۔۔ نفرت و عداوت، دوزخ کے لئے۔۔۔ کونسا کام ہے زندگی میں جو ہم دوزخ کے لئے نہیں کرتے۔ ہر وہ کام جو اللہ سے دور کرتا ہے۔۔۔ ہر وہ کام جو دلوں کو مردہ کررہا ہے۔۔۔ ہر وہ کام جو ہمارے دلوں اور باطن میں تاریکی اور اندھیرا پیدا کررہا ہے۔۔۔ ہر وہ کام جو ہمیں آئے دن اللہ کی قربت سے دور کررہا ہے۔۔۔ وہ دوزخ کے لئے ہے۔ فرمایا: اے بندے! جہنم کے لئے اتنا کام کر جتنی تو جہنم کی آگ کو برداشت کرسکے، یہ سوچ کر عمل کر کہ اس آگ کو کتنا برداشت کرسکے گا، جتنی تیری ہمت اور برداشت دوزخ کے لئے ہے اتنا دوزخ کا کام کر۔ بہت زیادہ اگر برداشت نہیں ہے تو پھر ان کاموں کو بھی کم کر جو دوزخ میں جانے کا باعث بنتے ہیں۔
 

No comments:

Post a Comment