دُعا کے معنی اللہ تعالیٰ سے مانگنے اور اس کی بارگاہ میں اپنی احتیاج کا دامن پھیلانے کے ہیں۔ دُعا کی اہمیت اسی سے واضح ہے کہ ہم سراپا احتیاج ہیں اور ہر لمحہ دُنیا و آخرت کی ہر بھلائی کے محتاج ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”دُعا موٴمن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے اور آسمان و زمین کا نور ہے۔“ (مسندِ ابویعلیٰ، مستدرک حاکم)
ایک اور حدیث میں ہے:
”دُعا عبادت کا مغز ہے۔“ (ترمذی)
ایک اور حدیث میں ہے:
”دُعا عین عبادت ہے۔“ (مسندِ احمد، نسائی، ابوداوٴد، ترمذی)
ایک اور حدیث میں ہے کہ:
”دُعا رحمت کی کنجی ہے، وضو نماز کی کنجی ہے، نماز جنت کی کنجی ہے۔“ (دیلمی بسند ضعیف)
ان ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دُعا کتنی محبوب ہے، اور کیوں نہ ہو؟ وہ غنیٴ مطلق ہے اور بندوں کا عجز و فقر ہی اس کی بارگاہِ عالی میں سب سے بڑی سوغات ہے۔ ساری عبادتیں اسی فقر و احتیاج اور بندگی و بے چارگی کے اظہار کی مختلف شکلیں ہیں۔ دُعا میں آدمی بارگاہِ الٰہی میں اپنی بے بسی و بے کسی اور عجز و قصور کا اعتراف کرتا ہے، اسی لئے دُعا کو عین عبادت بلکہ عبادت کا مغز فرمایا گیا، عبادت سے جس شخص کے دِل میں بندگی کی یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی وہ عبادت کی حلاوت و شیرینی اور لذّت آفرینی سے محروم ہے۔
حدیث میں ارشاد ہے کہ: تم اپنے رَبّ سے دُنیا و آخرت کی عفو و عافیت مانگو، کیونکہ دونوں چیزیں دُنیا میں بھی مل گئیں اور آخرت میں بھی تو تم کامیاب ہوگئے۔
(ترمذی)
ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کے لئے دُعا کا دروازہ کھل گیا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل گئے، اور اللہ تعالیٰ سے جتنی چیزیں مانگی جاتی ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یہ پسند ہے کہ آدمی عافیت مانگے۔ (ترمذی)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے افضل دُعا یہ ہے:
”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ۔“
اسی طرح سورہٴ بقرہ کی آیت:۲۰۱ میں جو دُعا مذکور ہے وہ بھی بہت جامع ترین دُعا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہی دُعا فرمایا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری و مسلم)
رحمتِ خداوندی کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے، اور ہر شخص جب چاہے اس کریم آقا کی بارگاہ میں بغیر کسی روک ٹوک کے اِلتجا کرسکتا ہے، اس لئے دُعا تو ہر وقت ہی موٴثر ہوتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ کوئی مانگنے والا ہو اور ڈھنگ سے مانگے۔ دُعا کی قبولیت میں سب سے زیادہ موٴثر چیز آدمی کی عاجزی اور لجاجت کی کیفیت ہے، کم از کم ایسی لجاجت سے تو مانگو جیسے ایک بھیک منگا سوال کیا کرتا ہے۔
حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ غافل دِل کی دُعا قبول نہیں فرماتے۔“ اور قرآن مجید میں ہے: ”کون ہے جو قبول کرتا ہے بے قرار کی دُعا، جبکہ اس کو پکارے۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دُعا کی قبولیت کے لئے اصل چیز پکارنے والے کی بے قراری کی کیفیت ہے۔ قبولیتِ دُعا کے لئے ایک اہم شرط لقمہ حلال ہے حدیث میں ارشاد ہے کہ: ”ایک شخص گرد و غبار سے اَٹا ہوا، پراگندہ بال، دُور دراز سے سفر کرکے (حج کے لئے) آتا ہے، اور وہ بڑی لجاجت سے ”یا رَبّ! یا رَبّ!“ پکارتا ہے، لیکن اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا، اس کی دُعا کیسے قبول ہو؟“
(صحیح مسلم)
یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آدمی کی ہر دُعا اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں، مگر قبولیت کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں، کبھی بعینہ وہی چیز عطا کردی جاتی ہے جو اس نے مانگی تھی، کبھی اس سے بہتر چیز عطا کردیتے ہیں، کبھی اس کی برکت سے کسی مصیبت کو ٹال دیتے ہیں، اور کبھی بندے کے لئے اس کی دُعا کو آخرت کا ذخیرہ بنادیتے ہیں، اس لئے اگر کسی وقت آدمی کی منہ مانگی مراد پوری نہ ہو تو دِل توڑ کر نہ بیٹھ جائے، بلکہ یہ یقین رکھے کہ اس کی دُعا تو ضرور قبول ہوئی ہے، مگر جو چیز وہ مانگ رہا ہے، وہ شاید علمِ الٰہی میں اس کے لئے موزوں نہیں، یا اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز عطا کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ:
”اللہ تعالیٰ موٴمن کو قیامت کے دن بلائیں گے، اور اسے اپنی بارگاہ میں باریابی کا اِذن دیں گے، پھر ارشاد ہوگا کہ: میں نے تجھے مانگنے کا حکم دیا تھا اور قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا، کیا تم مجھ سے دُعا کیا کرتے تھے؟ بندہ عرض کرے گا: یا اللہ! میں دُعا تو کیا کرتا تھا۔ ارشاد ہوگا کہ: تم نے جتنی دُعائیں کی تھیں میں نے سب قبول کیں۔ دیکھو! تم نے فلاں وقت فلاں مصیبت میں دُعا کی تھی، اور میں نے وہ مصیبت تم سے ٹال دی تھی، بندہ اقرار کرے گا کہ واقعی یہی ہوا تھا۔ ارشاد ہوگا: وہ تو میں نے تم کو دُنیا ہی میں دے دی تھی، اور دیکھو! تم نے فلاں وقت، فلاں مصیبت میں مجھے پکارا تھا، لیکن بظاہر وہ مصیبت نہیں ٹلی تھی، بندہ عرض کرے گا کہ: جی ہاں! اے رَبّ! یہی ہوا تھا، ارشاد ہوگا: وہ میں نے تیرے لئے جنت میں ذخیرہ بنا رکھی ہے۔“
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کو نقل کرکے فرمایا ہے:
”موٴمن بندہ اللہ تعالیٰ سے جتنی دُعائیں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ایک کی وضاحت فرمائیں گے کہ یا تو اس کا بدلہ دُنیا ہی میں جلدی عطا کردیا گیا، یا اسے آخرت میں ذخیرہ بنادیا گیا، دُعاوٴں کے بدلے میں جو کچھ موٴمن کو آخرت میں دیا جائے گا، اسے دیکھ کر وہ تمنا کرے گا کہ کاش! دُنیا میں اس کی کوئی بھی دُعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔“ (مستدرک)
ایک اور حدیث میں ہے کہ:
”اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ اسے خالی ہاتھ لوٹادے۔“
(ترمذی، ابنِ ماجہ)
الغرض! دُعا کرتے وقت قبولیت کا کامل یقین اور وثوق ہونا چاہئے، اور اگر کسی وقت بظاہر دُعا قبول نہ ہو، تب بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے، بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ حق تعالیٰ شانہ میری اس دُعا کے بدلے مجھے بہتر چیز عطا فرمائیں گے
بہرحال دُعا تو ہر شخص کی قبول ہوتی ہے، اور ہر وقت قبول ہوتی ہے (خواہ قبولیت کی نوعیت کچھ ہی ہو)، تاہم بعض اوقات ایسے ہیں جن میں دُعا کی قبولیت کی زیادہ اُمید کی جاسکتی ہے، ان میں سے چند اوقات ذکر کرتا ہوں:
۱:… سجدے کی حالت میں، حدیث میں ہے کہ: ”آدمی کو حق تعالیٰ شانہ کا سب سے زیادہ قرب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے خوب کثرت اور دِل جمعی سے دُعا کیا کرو۔“ (صحیح مسلم)
مگر حنفیہ کے نزدیک فرض نمازوں کے سجدے میں وہی تسبیحات پڑھنی چاہئیں جو حدیث میں آتی ہیں، یعنی ”سبحان ربی الاعلیٰ“ کریم آقا کی تعریف و ثنا بھی دُعا اور درخواست ہی کی مد میں شمار ہوتی ہے، اور نفل نمازوں کے سجدے میں جتنی دیر چاہے دُعائیں کرتا رہے۔
۲:… فرض نماز کے بعد، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ: کس وقت کی دُعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ فرمایا: ”رات کے آخری حصے کی اور فرض نمازوں کے بعد کی۔“ (ترمذی)
۳:… سحر کے وقت، حدیث میں ہے کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو زمین والوں کی طرف حق تعالیٰ کی نظرِ عنایت متوجہ ہوتی ہے اور اعلان ہوتا ہے کہ: ”کیا ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اس کو عطا کروں؟ ہے کوئی دُعا کرنے والا کہ اس کی دُعا قبول کریں؟ ہے کوئی بخشش کا طلب گار کہ میں اس کی بخشش کروں؟“ یہ سلسلہ صبحِ صادق تک جاری رہتا ہے۔ (صحیح مسلم)
۴:… موٴذّن کی اذان کے وقت۔
۵:… بارانِ رحمت کے نزول کے وقت۔
۶:… اذان اور اقامت کے درمیان۔
۷:… سفر کی حالت میں۔
۸:… بیماری کی حالت میں۔
۹:… زوال کے وقت۔
۱۰:… دن رات میں ایک غیرمعین گھڑی۔
یہ اوقات احادیث میں مروی ہیں۔
حدیث میں ارشاد ہے کہ: اپنی ذات، اپنی اولاد، اپنے متعلقین اور اپنے مال کے حق میں بددُعا نہ کیا کرو، دن رات میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ جس میں جو دُعا کی جائے، قبول ہوجاتی ہے، ایسا نہ ہو کہ تمہاری بددُعا بھی اسی گھڑی میں ہو اور وہ قبول ہوجائے (تو پھر پچھتاتے پھروگے)۔ (صحیح مسلم وغیرہ)
دُعا مانگنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود شریف پڑھے، پھر اپنے لئے اور تمام مسلمان بھائیوں کے لئے مغفرت کی دُعا کرے، پھر جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہتا ہے، مانگے۔
دُعا کے آداب میں سے یہ ہے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود شریف پڑھے، پھر اپنے لئے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعائے مغفرت کرے، پھر جو حاجت ہو وہ مانگے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نماز پڑھ رہا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی حاضرِ خدمت تھے، میں نماز سے فارغ ہوا تو میں نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود بھیجا، پھر میں نے اپنے لئے دُعا کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگ تجھ کو دیا جائے گا!، مانگ تجھ کو دیا جائے گا!“ (ترمذی، مشکوٰة ص:۸۷)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ: ”دُعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہری رہتی ہے، اس میں سے کوئی چیز اُوپر نہیں چڑھتی، یہاں تک کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود پڑھو۔“ (ترمذی، مشکوٰة ص:۸۷)



.jpg)


جزاک اللہ
ReplyDelete